کیا تیل کی قیمت 50 ڈالر تک آ سکتی ہے؟ ماہرین نے بڑی پیشگوئی کر دی

کیا خام تیل 50 ڈالر فی بیرل تک گر سکتا ہے؟

ایران امریکا کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں اور عالمی معیشت شدید دباؤ میں ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔ نتیجتاً برینٹ کروڈ آئل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات اپنی تیل پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتا ہے تو مستقبل میں قیمتوں میں نمایاں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

ایران امریکا کشیدگی اور عالمی منڈی پر اثرات

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں جنگی خدشات بڑھے۔ مزید یہ کہ تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خوف بھی پیدا ہوا۔ اسی وجہ سے خام تیل مہنگا ہوا۔ تاہم بعض معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مستقل نہیں۔ بلکہ اگر حالات بہتر ہوتے ہیں تو قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

خاص طور پر اگر متحدہ عرب امارات اوپیک سے الگ ہو جاتا ہے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ اس صورت میں وہ آزادانہ طور پر پیداوار بڑھا سکتا ہے۔ یوں عالمی منڈی میں سپلائی بہتر ہوگی اور قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

یو اے ای، اوپیک اور خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی

اگر متحدہ عرب امارات اوپیک سے علیحدگی اختیار کرتا ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ مزید برآں اگر یو اے ای اپنی مکمل پیداواری صلاحیت استعمال کرتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بڑھ سکتی ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اس اقدام سے اوپیک کی عالمی منڈی پر گرفت کمزور پڑ سکتی ہے۔ نتیجتاً خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا پہلے ہی دنیا کے بڑے ترین آئل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اسی طرح جدید شیل آئل ٹیکنالوجی نے اسے کم قیمتوں پر بھی منافع کمانے کے قابل بنایا ہے۔ علاوہ ازیں الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع کے استعمال میں اضافہ بھی تیل کی طلب کو کم کر سکتا ہے۔

یوں یہ تمام عوامل مل کر مستقبل میں خام تیل کی قیمتوں کو 50 ڈالر فی بیرل تک لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے ممکنہ معاشی فوائد

پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی تیل ضروریات کا 80 فیصد سے زائد حصہ درآمد کرتے ہیں، کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں کمی بڑی معاشی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو پاکستان کے درآمدی بل میں اربوں ڈالر کی بچت ممکن ہے۔ مزید یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات سستی ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح بجلی کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے۔ ساتھ ہی صنعتی شعبے کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

مستقبل کی پیش گوئی

اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ مزید برآں اگر متحدہ عرب امارات تیل کی پیداوار بڑھاتا ہے تو سپلائی بہتر ہوگی۔ اسی کے ساتھ اگر دنیا بھر میں متبادل توانائی کا استعمال بڑھتا رہتا ہے تو آنے والے مہینوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

تاہم اوپیک کی پالیسی، عالمی سیاسی حالات اور معاشی رفتار اب بھی اہم عوامل رہیں گے۔ اس لیے خام تیل کی قیمتوں کا مستقبل صرف سپلائی نہیں بلکہ عالمی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔

مزید معلومات کے لیے معتبر ذرائع

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA): https://www.iea.org/

اوپیک کی آفیشل ویب سائٹ: https://www.opec.org/

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA): https://www.eia.gov/

برینٹ کروڈ آئل مارکیٹ اپڈیٹس: https://www.investing.com/commodities/brent-oil