ایران امریکامذاکرات،تہران کو 3 ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جہاں علاقائی سلامتی، اقتصادی معاملات اور دیگر اہم امور پر مختلف سطحوں پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان مذاکرات میں قطر اور پاکستان سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے نمائندوں اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل وفود مختلف سیشنز میں شریک ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوحہ میں ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان ایک علیحدہ اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں پہلے سے موجود مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد اور اس سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف نکات اور آئندہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایرانی سینئر عہدیدار نے کہا کہ موجودہ مذاکرات میں ایران کے منجمد مالی اثاثوں، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے سے متعلق دیگر حساس اقتصادی و سیاسی معاملات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب العربیہ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دوحہ مذاکرات کے دوران ایران کو تقریباً 3 ارب ڈالر جاری کرنے کے حوالے سے ابتدائی اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ فریقین کی جانب سے ابھی تک باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی۔
العربیہ کے مطابق عمان کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ فریم ورک کے تحت آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال جاری ہے، جبکہ مذاکراتی ٹیمیں مزید مشاورت کے لیے اپنے اپنے ممالک واپس جائیں گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق قطر اور پاکستان ابتدائی نوعیت کے معاہدوں کی تیاری میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں، جبکہ تیار ہونے والا مسودہ حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایران کسی بھی بڑی پیش رفت سے قبل مفاہمتی یادداشت کی پانچ بنیادی شقوں پر عملدرآمد کا خواہاں ہے، جن میں لبنان میں جنگ کا خاتمہ، بے گھر افراد کی واپسی اور لبنانی خودمختاری کا تحفظ شامل ہیں۔
ایرانی مؤقف کے مطابق لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں ممکنہ معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جبکہ تہران اپنے منجمد مالی اثاثے ایران کے مرکزی بینک کو منتقل کرنے کا مطالبہ بھی دہرا رہا ہے۔
ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی خودمختاری کے دائرہ اختیار میں واقع ہے، جبکہ تہران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ اپنے تعاون کے وعدوں پر قائم ہے۔