ایران امریکہ کشیدگی کے بعد تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور باہمی حملوں کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں دوبارہ تیزی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی رفتار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 72 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی بڑھوتری کے بعد 70 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی منڈی کو اب بھی مختلف خطرات لاحق ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ توانائی کی سپلائی معمول پر آنے کی رفتار عالمی منڈی کے توازن کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تیل کی رسد کی بحالی سست روی کا شکار رہی تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مارکیٹ کا پُرسکون رویہ غیر متوقع سمجھا جا رہا ہے کیونکہ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں قیمتیں تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل میں بہتری آنے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، اور مسلسل تیسرے ہفتے تیل سستا ہوا تھا۔ تاہم تازہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے بعد مارکیٹ کا رجحان دوبارہ بدلتا نظر آ رہا ہے۔