کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں مسلح افراد نے سکیورٹی کمپنی کی کیش وین کو نشانہ بناتے ہوئے مبینہ طور پر 30 کروڑ روپے لوٹ لیے اور موقع سے فرار ہو گئے۔ وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی سینٹرل سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی کمپنی کی وین طارق روڈ سے جوہر آباد میں واقع نجی بینک کی برانچ کی جانب رقم منتقل کر رہی تھی کہ راستے میں ایک جگہ چائے پینے کے لیے رکنے کے دوران یہ واردات پیش آئی۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کالی ڈبل کیبن گاڑی کیش وین کے قریب آ کر رکی، جس سے چار مسلح افراد باہر نکلے۔ ایک ملزم ڈرائیور سائیڈ سے جبکہ باقی تین افراد وین کے پچھلے حصے سے اندر داخل ہوئے اور کچھ ہی دیر بعد وین اور ڈبل کیبن گاڑی سمیت فرار ہو گئے۔
ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر عمران کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سکیورٹی کمپنی کا چیف کریو واجد اس واردات میں مبینہ طور پر ملوث پایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واجد نے گارڈز سے کیش وین کی چابیاں حاصل کر کے ڈاکوؤں کو رقم تک رسائی دی اور واردات کے بعد انہی کے ساتھ فرار ہو گیا۔
واقعے کے بعد دو گارڈز اور ڈرائیور کو حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق کیش وین میں نصب کیمروں کی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں واجد کو ملزمان کے ساتھ اطمینان سے بیٹھے اور چابیاں دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔