مرتضیٰ زلفی اور توفیق بٹ کو پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کرنے پر کراچی پریس کلب کا شدید تشویش کا اظہار
کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے کلب کے سینئر رکن اور روزنامہ نئی بات کے رپورٹر مرتضیٰ کے زلفی، جبکہ معروف کالم نگار توفیق بٹ کو این سی سی آئی اے کی جانب سے پیکا ایکٹ کے تحت جاری کیے گئے نوٹسز پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پریس کلب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ادارہ ہمیشہ صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کو مسترد کرتا ہے جو صحافتی آزادی کو محدود کرنے کا سبب بنے۔
عہدیداروں کا کہنا تھا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن کی شکایت پر ایک اخبار اور اس کے کالم نگار کو صرف ایک اصطلاح کے استعمال کی بنیاد پر نوٹس جاری کرنا آزادیٔ صحافت، اظہارِ رائے اور عوام کے حقِ معلومات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ان کے مطابق صحافتی تحریروں میں مختلف ادبی و تنقیدی اصطلاحات کا استعمال صحافت کا حصہ ہے اور اسے قدغن لگانے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔
کراچی پریس کلب نے مرتضیٰ کے زلفی کو ایک کوآپریٹو سوسائٹی کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی بھی مذمت کی۔
بیان میں این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا گیا کہ ان نوٹسز کے قانونی اور حقائق پر مبنی جواز کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور صحافیوں کو غیر ضروری دباؤ یا ہراسانی سے بچانے کے لیے شفاف اور متوازن پالیسی اختیار کی جائے۔
کراچی پریس کلب نے واضح کیا کہ صحافی برادری کے خلاف کسی بھی قسم کے دباؤ یا ہراسانی کے اقدامات کو قبول نہیں کیا جائے گا اور صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں ایسے حربوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔