کراچی: رینجرز کے کیمپ پر ناکام حملے میں گرفتار زخمی دہشت گرد کا اعترافی بیان

کراچی میں پاکستان رینجرز کے ایک کیمپ پر حملے کی مبینہ کوشش کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے ایک مشتبہ دہشت گرد کا اعترافی بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں اس نے خود کو افغانستان کا شہری قرار دیتے ہوئے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔

حکام کے مطابق گرفتار شخص نے اپنی شناخت عثمان علی کے نام سے کروائی اور بتایا کہ وہ افغانستان کے شہر جلال آباد کا رہائشی ہے۔ اس کے بقول وہ تین دیگر ساتھیوں عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق کے ہمراہ پاکستان آیا تھا، جن میں سے عبدالہادی کارروائی کے دوران ہلاک ہو چکا ہے۔

گرفتار ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور انہیں ایک زیرِ تعمیر عمارت میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ مبینہ طور پر وزیرستان سے لایا گیا تھا۔

اعترافی بیان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران فرار ہونے کی کوشش میں اسے گولی لگی جس کے بعد وہ زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا۔ ملزم نے اپنے تعلق کو کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے جوڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو افغانستان میں تربیت فراہم کی گئی تھی۔

دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے متعدد بار شواہد پیش کر چکا ہے اور اس مسئلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کراچی میں پاکستان رینجرز کے کیمپ پر حملے کی کوشش کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ بیان کے مطابق کارروائی میں تین حملہ آور مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاکستان رینجرز کے تین اہلکار شہید اور تین دیگر زخمی ہوئے۔