قصور ۔ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں 2 لڑکیاں گرفتار
قصور میں ایک نوجوان پر مبینہ طور پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں پولیس نے دو خواتین کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمہ نے متاثرہ نوجوان کو ملاقات کے لیے بلایا اور موٹر سائیکل پر رنگ پور کی جانب جانے کا کہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب دونوں ایک نسبتاً سنسان مقام پر پہنچے تو خاتون نے اپنے بیگ سے تیزاب سے بھری بوتل نکال کر نوجوان پر پھینک دی اور بعد ازاں موقع سے فرار ہو گئی۔
متاثرہ نوجوان، جو روزگار کے سلسلے میں ملائیشیا میں مقیم تھا اور کچھ عرصہ قبل پاکستان واپس آیا تھا، نے تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج کروا دیا۔ درخواست میں اس نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کے روز وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ موٹر سائیکلوں پر سفر کر رہا تھا کہ راستے میں ایک موٹر سائیکل پر سوار خاتون اور اس کے ساتھی نے اسے روکا، جس کے بعد اس پر مبینہ طور پر تیزاب پھینکا گیا، جو اس کے سر، چہرے اور آنکھوں پر گرا۔
متاثرہ شخص نے ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد اس کی جیب سے نقد رقم، ضروری دستاویزات اور طلائی چین بھی لے لی گئی۔ طبی معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی آنکھوں کی جھلی متاثر ہوئی ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔
متاثرہ نوجوان نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ حملہ اس کی سابقہ اہلیہ کے کہنے پر کیا گیا، جس سے اس کی طلاق ہو چکی ہے۔
دوسری جانب زیرِ حراست خاتون کے اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نوجوان مبینہ طور پر ان کی بیٹی کو مسلسل شادی کے لیے دباؤ میں رکھتا تھا، بار بار پیغامات بھیجتا اور راستہ روکنے جیسی حرکات کرتا تھا۔ ان کے مطابق اسی صورتحال سے تنگ آ کر خاتون نے اپنی ایک ساتھی کے ساتھ مل کر یہ انتہائی اقدام کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں سامنے آنے والے تمام دعوؤں اور بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔