شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا مناسب نہیں اور اس سے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا مناسب نہیں اور اس سے شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاست دان اور مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوامی بیانات میں الفاظ کے انتخاب میں احتیاط سے کام لیں۔ ان کے بقول فوجی جوانوں کی وطن کے لیے دی جانے والی قربانی کو صرف ملازمت یا تنخواہ سے منسلک کرنا حقیقت کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فرد صرف مالی معاوضے کی خاطر اپنی جان قربان نہیں کرتا، بلکہ اس کے پیچھے وطن سے محبت، فرض شناسی، نظریاتی وابستگی اور قومی ذمہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو ریاستی پالیسیوں یا طریقۂ کار سے اختلاف کا حق حاصل ہے، تاہم قومی قربانیوں اور شہداء کے جذبے کو نشانہ بنانا درست نہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اب بھی جاری ہیں، جن میں پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی قربانیوں کو محض تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی اختلاف نہیں بلکہ شہداء کی خدمات کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سیکیورٹی اداروں بلکہ شہداء کے اہلِ خانہ، غازیوں، بیواؤں اور یتیم بچوں کے احساسات پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔