میسی کی کامیابی کے پیچھے موجود باپ جورخے میسی 68 برس کی عمر میں چل بسے

فٹبال کی دنیا کے عظیم ترین ستاروں میں شمار ہونے والے لیونل میسی کے والد جورخے میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ صرف میسی کے والد ہی نہیں بلکہ ان کے ابتدائی فٹبال سفر، علاج اور پیشہ ورانہ کیریئر میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت بھی تھے۔

جورخے میسی خود بھی نوجوانی میں فٹبال کھیلتے رہے، تاہم لازمی فوجی تربیت مکمل کرنے اور خاندان کی ذمہ داریاں بڑھنے کے بعد انہوں نے کھیل کو خیرباد کہہ دیا۔ بعد ازاں انہوں نے کیمیکل انجینئر کی حیثیت سے ایک فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی۔ چار بچوں والے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کی اہلیہ ماریہ بھی ورکشاپ میں جز وقتی کام کرتی تھیں۔

جورخے اپنے گھر کے قریب ایک مقامی فٹبال کلب میں بچوں کو کوچنگ بھی دیتے تھے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے کم عمر بیٹے لیونل میں فٹبال کے لیے غیر معمولی جنون محسوس کیا۔ انہیں اندازہ ہوگیا کہ بیٹے میں وہ صلاحیت موجود ہے جسے مناسب مواقع ملیں تو وہ بہت آگے جا سکتا ہے۔

تاہم میسی کا سفر ابتدا ہی سے آسان نہیں تھا۔ تقریباً 10 برس کی عمر میں معلوم ہوا کہ وہ گروتھ ہارمون کی کمی کے مسئلے کا شکار ہیں، جس کے باعث ان کی جسمانی نشوونما متاثر ہو رہی تھی۔ اس کا علاج باقاعدگی سے مہنگے انجیکشن کے ذریعے کیا جاتا تھا، جس کا ماہانہ خرچ اس زمانے میں تقریباً ایک ہزار ڈالر تک بتایا جاتا ہے۔

جورخے نے ابتدا میں اپنی جمع پونجی سے بیٹے کا علاج جاری رکھا، بعد میں انشورنس سے بھی مدد ملی۔ جب میسی کے ابتدائی کلب کے لیے علاج کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوگئے تو جورخے نے ہمت نہیں ہاری اور بیٹے کو اسپین لے جا کر بارسلونا کے ٹرائل میں شرکت کروائی۔

بارسلونا کی انتظامیہ میسی کی صلاحیت سے متاثر ہوئی، تاہم علاج کے مسلسل اخراجات ایک بڑا مسئلہ تھے۔ بالآخر دسمبر 2000 میں کلب کے ڈائریکٹر کارلس ریچاک نے مشہور ٹشو پیپر پر معاہدہ تحریر کرکے میسی کو بارسلونا سے جوڑنے کی راہ ہموار کردی۔ یہی فیصلہ آگے چل کر میسی کے تاریخی فٹبال سفر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔

کچھ عرصے بعد میسی کی والدہ اور ان کے دیگر بہن بھائی بھی بارسلونا منتقل ہوئے، لیکن بیرونِ ملک زندگی کے مسائل اور محدود رہائش کے باعث خاندان کے کچھ افراد واپس ارجنٹائن چلے گئے۔ اس دور میں جورخے کو اپنے بیٹے کے فٹبال کیریئر کے ساتھ ساتھ اس کی جذباتی کیفیت کو سنبھالنے کا چیلنج بھی درپیش رہا۔

میسی نے بعد میں مختلف مواقع پر اپنے والد کی حمایت کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق بارسلونا میں ابتدائی دنوں کے دوران جب وہ تنہائی اور جذباتی دباؤ محسوس کرتے تو ان کے والد ان کے ساتھ کھڑے رہتے اور انہیں فیصلہ کرنے کا حوصلہ دیتے کہ آیا وہ اسپین میں رہنا چاہتے ہیں یا واپس ارجنٹائن جانا چاہتے ہیں۔

وقت کے ساتھ حالات بدلتے گئے۔ میسی نے 2004-05 کے سیزن میں بارسلونا کی سینئر ٹیم کے لیے باضابطہ ڈیبیو کیا اور پھر دنیا کے بہترین فٹبالرز میں اپنا مقام بنا لیا۔ اس پورے سفر میں جورخے نے ان کے والد کے ساتھ ساتھ مینیجر، قانونی نمائندے اور کاروباری معاملات میں شراکت دار کے طور پر بھی کردار ادا کیا۔

میسی کے کیریئر کے دوران بارسلونا کے ساتھ ہونے والے متعدد معاہدوں اور دیگر پیشہ ورانہ معاملات میں بھی جورخے کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کے کیریئر کو سنوارنے، بہتر مواقع حاصل کرنے اور اس کی صلاحیتوں کو عالمی سطح تک پہنچانے کے لیے مسلسل محنت کی۔

جورخے میسی نے اپنے ادھورے فٹبال خوابوں کو بیٹے کی کامیابی میں مکمل ہوتے دیکھا۔ انہوں نے مشکلات، مالی دباؤ، ہجرت اور خاندانی جدائی جیسے حالات کا سامنا کیا، لیکن بیٹے کے خواب سے پیچھے نہیں ہٹے۔

ان کی زندگی کا ایک یادگار لمحہ وہ بھی تھا جب لیونل میسی نے ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے 2022 کا فیفا ورلڈ کپ جیتا اور دنیا کی سب سے بڑی فٹبال ٹرافی اپنے ہاتھوں میں بلند کی۔

جورخے میسی اب دنیا میں موجود نہیں، لیکن اپنے بیٹے کے ذریعے فٹبال کی تاریخ میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے مشکلات کے باوجود ایک ایسے خواب پر یقین قائم رکھا جس نے بعد میں لیونل میسی کو عالمی فٹبال کے عظیم ترین ستاروں میں شامل کر دیا۔