اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا اسپیکر قومی اسمبلی کو جواب

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اسپیکر سردار ایاز صادق کے گزشتہ روز کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کا منصب غیر جانبداری کا تقاضا کرتا ہے اور انہیں اراکین کی تقاریر کا جواب دینے کے بجائے ایوان کی کارروائی چلانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے اسپیکر کی باتوں کا جواب دے رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کے مطابق گزشتہ روز ان کی ایک تقریر کا حوالہ دیا گیا، حالانکہ وہ خطاب چمن میں پشتو زبان میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تقریر کا درست مفہوم سمجھنا مقصود ہے تو ایسے افراد سے مدد لی جا سکتی ہے جو پشتو زبان جانتے ہوں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ان کی تقریر میں قانون اور انصاف کے نظام سے متعلق عوامی مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا اور انہوں نے مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے پنچایتی نظام کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ اگر حکومت عوامی فلاح، خصوصاً غریب طبقے کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے گی تو اپوزیشن اس کی حمایت کرے گی، تاہم اگر سیاسی کارکنوں کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے یا انہیں جیلوں میں ڈالا گیا تو اپوزیشن اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں ماضی کے بعض سیاسی بیانات کا بھی حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے حوالے سے مؤقف میں وقت کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کی وضاحت ہونی چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے کا احترام ضروری ہے اور پارلیمان کو تمام سیاسی قوتوں کے لیے مؤثر مکالمے کا پلیٹ فارم بننا چاہیے۔