ساہیوال کی سیاست کا ایک عظیم باب ملک ندیم کامران (2026-1953)

ساہیوال ۔( چوہدری وسیم ارشاد سے) ملک ندیم کامران سابق صوبائی وزیر سنئیر رہنما پاکستان مسلم لیگ ن کی وفات کے بعد ساہیوال کی مختلف بیٹھکوں، گلی محلوں اور عوامی محفلوں میں ان کا ذکر انتہائی احترام اور اداسی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے چہروں پر غم نمایاں دکھائی دیتا ہے اور گفتگو میں ایک خلوص محسوس ہوتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ عوام کے دلوں کے قریب انسان تھے۔

سیاست میں اکثر لوگ عہدے، پروٹوکول اور طاقت کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کی یادیں بھی دھندلا جاتی ہیں۔ تاہم کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے رویے، اخلاق اور عوام سے تعلق کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں۔ عوامی رائے کے مطابق ملک ندیم کامران انہی لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے سیاست کو صرف اقتدار تک محدود نہیں رکھا بلکہ لوگوں کے مسائل سننے، ان کے دکھ بانٹنے اور ان کے درمیان رہنے کو اپنی پہچان بنایا۔

ان کی وفات کی خبر نے ساہیوال میں ایک غیر معمولی خاموشی پیدا کر دی۔ اگرچہ وہ کافی عرصے سے علیل تھے، لیکن اس کے باوجود لوگ اس خبر کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آئے۔ مختلف حلقوں میں یہی جملہ سننے کو ملا کہ “وہ ابھی کل تک لوگوں کے درمیان موجود تھے، مسائل سن رہے تھے اور رہنمائی کر رہے تھے۔” یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ایک انسان جسمانی طور پر تو دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کی یاد لوگوں کے دلوں میں باقی رہتی ہے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ صرف وعدے کرنے والے سیاستدان نہیں تھے بلکہ عام آدمی کے دکھ درد کو سمجھنے والے انسان تھے۔ کئی افراد نے یہ بھی کہا کہ ان کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کر کے ہی دل کو سکون مل جاتا تھا۔ یہ احساس کسی بھی شخصیت کے کردار کا سب سے بڑا اعتراف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ہر شخص مسائل حل نہیں کر سکتا مگر ہر کوئی دوسروں کا درد محسوس بھی نہیں کرتا۔

ان کے جنازے میں شرکت کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد لاہور پہنچی۔ بہت سے افراد ایسے بھی تھے جو مالی مشکلات کے باوجود صرف محبت اور عقیدت کے باعث وہاں موجود تھے۔ یہ منظر صرف ایک سیاسی رہنما کی آخری رسومات نہیں بلکہ عوامی محبت اور احترام کی حقیقی تصویر بن گیا۔

آج کے سیاسی ماحول میں عوام اور سیاستدانوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو صرف ترقیاتی منصوبے نہیں بلکہ ایسے رہنما درکار ہیں جو ان کی بات سن سکیں، ان کے مسائل کو سمجھ سکیں اور انہیں اہمیت دے سکیں۔ شاید اسی وجہ سے ساہیوال کے عوام آج ایک خلا محسوس کر رہے ہیں۔

مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، جن میں مزدور، تاجر، کسان، نوجوان اور بزرگ شامل تھے، سب نے ان کے کردار کو اچھے الفاظ میں یاد کیا۔ کسی نے انہیں مخلص انسان قرار دیا، کسی نے عوامی رہنما، جبکہ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسے بااخلاق اور شفیق سیاستدان اب کم دکھائی دیتے ہیں۔

یہ دنیا عارضی ہے اور ہر انسان نے ایک دن رخصت ہونا ہے، مگر کچھ لوگ اپنے کردار، اخلاق اور محبت کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور معاشرے کو دوبارہ ایسے عوام دوست اور باکردار افراد عطا فرمائے۔

آج ساہیوال ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کو یاد کر رہا ہے جس نے لوگوں کے دلوں میں اپنی الگ جگہ بنائی۔