کرکٹرز کی پرفارمینس کو بہتر بنانے کیلئے سینٹرل کنٹریکٹ تبدیل کیا جا رہا ہے۔ مائیک ہیسن

پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے سینٹرل کنٹریکٹ کے نظام میں تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ ہر کرکٹر اپنے مخصوص فارمیٹ پر زیادہ توجہ دے سکے۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ تمام فارمیٹس کے لیے ایک ہی نوعیت کے سینٹرل کنٹریکٹ کا ماڈل اب مؤثر نہیں رہا۔ ان کے مطابق ٹی 20 کرکٹ میں مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کو لازمی طور پر فرسٹ کلاس کرکٹ کھلانے سے ان کی خصوصی صلاحیتوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جو کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ ایک ایسا نیا نظام تیار کر رہا ہے جس سے مختلف فارمیٹس کے ماہر کھلاڑی اپنی کارکردگی مزید بہتر بنا سکیں گے۔

مائیک ہیسن نے قومی ٹیم کی حالیہ پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ٹیم کی کامیابی کا تناسب بہت کم تھا اور ہوم و بیرونِ ملک سیریز جیتنا مشکل ہو گیا تھا۔ تاہم اب نتائج میں واضح بہتری آئی ہے اور جیت کا تناسب نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم کامیابی کی شرح کے ساتھ بڑے آئی سی سی ٹورنامنٹس جیتنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پاکستان آئی سی سی مقابلوں میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا تھا، لیکن 2026 میں ٹیم نے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کی۔

ہیڈ کوچ نے ایشیا کپ میں ٹیم کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کئی ماہرین پاکستان کو فیورٹ قرار نہیں دے رہے تھے، لیکن ٹیم فائنل تک پہنچی، جو مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتری کا عمل ابھی جاری ہے اور ٹیم مزید مضبوط ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے کافی وقت موجود ہے اور ٹیم انتظامیہ نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع فراہم کر کے دستیاب ٹیلنٹ پول کو وسیع کرنا چاہتی ہے۔ ایشین گیمز میں بھی ایسے کھلاڑیوں کو موقع دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں قومی ٹیم کے اہم رکن بن سکتے ہیں۔

مائیک ہیسن کے مطابق ایشین گیمز میں صرف بھارت ہی نہیں بلکہ افغانستان، سری لنکا اور دیگر مضبوط ٹیمیں بھی موجود ہیں، اس لیے ہر حریف کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم کا موجودہ توازن حوصلہ افزا ہے اور کھلاڑی بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔