مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت متوقع نہیں۔دنیا نیوز

آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے دنیا کے مختلف ممالک سے رہنما، سرکاری نمائندے، اعلیٰ حکام اور مذہبی شخصیات مسلسل تہران پہنچ رہی ہیں، جبکہ 30 سے زائد ممالک کے سفارتی وفود کی شرکت متوقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کے اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک ہونے کا امکان نہیں ہے۔

یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے مبینہ فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ ان کی تدفین اور آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز تقریباً چار ماہ بعد کیا جا رہا ہے۔

فی الحال سپریم لیڈر کا جسدِ خاکی تہران کی گرینڈ مصلیٰ مسجد میں رکھا گیا ہے، جہاں عوام اور بیرونِ ملک سے آنے والے وفود تعزیت اور آخری دیدار کے لیے مسلسل پہنچ رہے ہیں۔

طے شدہ پروگرام کے مطابق 6 جولائی کو تہران میں مرکزی تعزیتی جلوس نکالا جائے گا، جبکہ 7 جولائی کو قم میں بھی سوگ کی تقریب منعقد ہوگی۔

بعد ازاں 8 جولائی کو جسدِ خاکی عراق منتقل کیا جائے گا، جہاں نجف اور کربلا میں تعزیتی جلوس اور آخری دیدار کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے بعد 9 جولائی کو جسدِ خاکی دوبارہ ایران لایا جائے گا اور اسی روز مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔