مکیش رشی 90 کی دھائی کے مشہور انڈین ولن

مکیش رشی 90 کی دہائی کے ان اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بھارتی فلموں میں ولن کے کردار کو ایک نئی شناخت دی۔ ان کا لمبا قد، سخت چہرہ اور خوف پیدا کرنے والا انداز ایسا تھا کہ پردے پر آتے ہی ناظرین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے۔ ان کی مضبوط شخصیت اور مکالمہ ادا کرنے کے منفرد انداز نے انہیں بھارتی سینما کے یادگار ولن میں شامل کر دیا۔ جس دور میں امریش پوری ولن کے طور پر چھائے ہوئے تھے، اسی زمانے میں مکیش رشی نے بھی اپنی الگ پہچان بنائی۔

مکیش رشی کا تعلق جموں کشمیر سے ہے۔ وہ 19 اپریل 1956 کو جموں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پتھر کے کاروبار سے وابستہ تھے، جبکہ مکیش رشی کو نوجوانی میں کرکٹ سے خاص شغف تھا۔ وہ اپنی یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے وائس کیپٹن بھی رہے۔ بعد میں روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک گئے جہاں ایک اسٹور میں منیجر کے طور پر ملازمت کی۔ اسی دوران ان کی ملاقات کیشنی سے ہوئی، جن سے بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔

بیرون ملک قیام کے دوران مکیش رشی نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا، اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ان کے دل میں اداکاری کا شوق پیدا ہوا۔ بھارت واپسی پر انہوں نے باقاعدہ اداکاری کی تربیت حاصل کی۔ اپنے ابتدائی دنوں میں وہ چند ٹی وی سیریلز اور اشتہارات میں نظر آئے، مگر فلمی دنیا میں اصل پہچان انہیں 1993 کی فلم “گردش” سے ملی۔ اس فلم میں ان کا “بِلا جیلانی” کا کردار شائقین میں بے حد مقبول ہوا اور وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

اس کامیابی کے بعد مکیش رشی نے متعدد کامیاب فلموں میں بطور ولن اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی نمایاں فلموں میں “گھاتک”، “لوفر”، “سوریا ونشم”، “جڑواں”، “گپت”، “ارجن پنڈت”، “کہرام”، “جال”، “بندھن” اور “کوئی مل گیا” شامل ہیں۔ 1998 کی فلم “غنڈہ” میں ان کا کردار “بُلا” آج بھی مداحوں کے ذہنوں میں زندہ ہے، اور اس کا مشہور مکالمہ “میرا نام ہے بُلا…” اب بھی شائقین میں مقبول ہے۔

فلموں کے علاوہ مکیش رشی نے ملیالم، تیلگو اور پنجابی سینما میں بھی اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔ فلم “سرفروش” میں ان کا “انسپکٹر سلیم” کا کردار بھی ان کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ کردار انہیں عامر خان کی سفارش پر ملا، جس کے لیے انہوں نے اسکرین ٹیسٹ دیا اور اپنی بہترین اداکاری سے سب کو متاثر کیا۔

مکیش رشی کی ولن اداکاری اتنی حقیقت کے قریب ہوتی تھی کہ کئی خواتین اور بچے انہیں حقیقت میں بھی خوفناک سمجھنے لگتے تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بہت سے بچے جو سینما میں انہیں دیکھ کر ڈر جاتے تھے، بعد میں گھر جا کر انہی کے مکالمے دہراتے تھے۔

2000 کے بعد ان کے فلمی کیریئر میں مشکلات آئیں۔ بالی ووڈ میں بدلتے رجحانات اور بعض اندرونی معاملات کے باعث انہیں کم مواقع ملنے لگے۔ اس صورتحال میں انہوں نے جنوبی بھارتی فلموں کا رخ کیا، جہاں انہیں ایک بار پھر نمایاں کردار اور بھرپور پذیرائی ملی۔

مکیش رشی اس وقت ممبئی میں اپنی اہلیہ اور بیٹے راگھو کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ اب وہ فلموں میں کم دکھائی دیتے ہیں، لیکن بھارتی سینما کے ناظرین انہیں ایک ایسے ولن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گے جس نے اپنے انداز، آواز اور شخصیت سے پردۂ سیمیں پر ایک منفرد مقام حاصل کیا۔