نِشات گروپ اور چینی کمپنی آئی کار کی شراکت: پاکستان میں برقی چار پہیوں والی گاڑیوں کے نئے دور کی شروعات
نِشات گروپ اور چینی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی آئی کار کے درمیان ممکنہ شراکت کو پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس لیے یہ منصوبہ صرف نئی گاڑیوں کی آمد نہیں ہے۔ بلکہ یہ معیشت، روزگار اور ماحولیات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
مقامی پیداوار اور صنعتی ترقی
اس شراکت کے تحت توقع ہے کہ نِشات گروپ پاکستان میں مقامی سطح پر گاڑیوں کی اسمبلنگ یا تیاری کے کارخانے قائم کرے گا۔ نتیجتاً ملک میں جدید برقی چار پہیوں والی مضبوط گاڑیوں کی تیاری شروع ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ درآمدی گاڑیوں پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔
مزید یہ کہ اس اقدام سے صنعتی ترقی کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
روزگار کے مواقع
ماہرین کے مطابق اس منصوبے کا بڑا فائدہ روزگار کے نئے مواقع کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
جیسے ہی مقامی پیداوار شروع ہوگی، انجینئرنگ، اسمبلنگ، پرزہ جات اور سروس کے شعبوں میں ہزاروں نوکریاں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اس وجہ سے یہ منصوبہ معیشت کے لیے مثبت سمجھا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی اثرات
اسی طرح ماحولیاتی لحاظ سے بھی یہ شراکت اہم ہے۔ برقی گاڑیوں کے استعمال سے کاربن گیسوں کا اخراج کم ہوگا۔
نتیجتاً شہروں میں فضائی آلودگی میں کمی آ سکتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ اقدام صاف توانائی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
درآمدی گاڑیوں پر اثر
مزید یہ کہ اس منصوبے کو درآمدی گاڑیوں پر عائد بھاری ٹیکسوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان میں درآمد شدہ بڑی گاڑیوں پر زیادہ ٹیکس کی وجہ سے قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔
لہٰذا اگر آئی کار کی گاڑیاں مقامی طور پر تیار ہوں تو قیمت کم ہو سکتی ہے۔
نتیجتاً یہ گاڑیاں عام صارف کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہو جائیں گی۔
نتیجہ
اگر یہ شراکت کامیاب رہتی ہے تو یہ مہنگی درآمدی گاڑیوں کا مضبوط متبادل بننے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں برقی آف روڈ گاڑیوں کے نئے دور کی شروعات بھی کر سکتی ہے۔
Outbound Links
https://www.iea.org/reports/global-ev-outlook-2024