پاکستان اور آئی ایم ایف کے پالیسی مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات پیر سے شروع ہونے جارہے ہیں، جن میں پروگرام کے اہداف پر عملدرآمد اور اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر اہداف پر نمایاں پیش رفت ہوچکی ہے، تاہم شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے معاملے پر سندھ کے تحفظات بدستور برقرار ہیں۔

ذرائع کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کرچکے ہیں، لیکن سندھ کی جانب سے اعتراض کے باعث اس معاملے پر ابھی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔

مذاکرات کے دوران صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اخراجات سے متعلق مقررہ اہداف بھی زیر بحث آئیں گے، کیونکہ ان پر مطلوبہ پیش رفت حاصل نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب ٹیکس اصلاحات اور گورننس سے متعلق متعدد اہداف پر کام جاری ہے، جبکہ ٹیکس اصلاحات کے مقررہ اہداف پر دسمبر 2026 تک عملدرآمد مکمل ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سرکاری افسران کے مالی گوشوارے بھی دسمبر 2026 تک عوامی رسائی کے لیے سرکاری ویب سائٹ پر جاری کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

کرپشن کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی جامع حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں زیادہ خطرے والے اداروں کی نشاندہی، رسک اسیسمنٹ اور بدعنوانی کے امکانات کم کرنے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی آئی ایم ایف کی مشاورت سے انسدادِ بدعنوانی سے متعلق اقدامات کی نگرانی کرے گی اور ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی۔

سرکاری اداروں کی گورننس میں بہتری لانے کے لیے ساورن ویلتھ فنڈ ایکٹ میں بھی ترامیم کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اداروں کو یکساں گورننس فریم ورک کے تحت لانے، شفافیت بڑھانے اور ادارہ جاتی جوابدہی مؤثر بنانے کے لیے مزید قانون سازی بھی متوقع ہے۔