حکومت کا آئی ٹی برآمدات 50 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ تربیت یافتہ آئی ٹی ماہرین ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک لاکھ ہنرمند آئی ٹی پروفیشنلز پاکستان کی معیشت میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے لیے باصلاحیت اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق حکومت آئی ٹی انڈسٹری کے ساتھ مل کر برآمدات میں پائیدار ترقی کے لیے کام کررہی ہے۔

شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستانی آئی ٹی شعبے کی بہتر مارکیٹنگ اور ملک کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ بین الاقوامی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری مواقع کی جانب متوجہ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئی ٹی کے شعبے میں ہنرمند افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، اس لیے اسکول کی سطح سے لے کر یونیورسٹی تک طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق جدید مہارتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت آئی ٹی سیکٹر کے لیے مختلف بڑے تربیتی پروگرامز پر کام کررہی ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری میں تبدیلی کی رفتار بہت تیز ہے، اس لیے کاروبار شروع کرنے، کمپنی رجسٹر کرنے اور مالی لین دین کے عمل کو آسان بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دبئی اور سنگاپور جیسے ٹیک مراکز میں کمپنیاں مختصر وقت میں رجسٹر ہوجاتی ہیں، اس لیے پاکستان کو بھی آئی ٹی سرمایہ کاری کے لیے ایسا کاروباری ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کا باعث بنے۔