حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے ڈیزل اور پٹرول دونوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے ڈیزل اور پٹرول دونوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ آئندہ قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا نیا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 44 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ مستقبل میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لے گی تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر خام تیل، خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ پٹرول بھی 89 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے تقریباً 130 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی، جبکہ ہدفی سبسڈی کا نظام بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آئے گی تو اس کا فائدہ براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کا بھی عندیہ دیا۔
علی پرویز ملک کے مطابق آئندہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا بنیادی پیمانہ گزشتہ سات روز کی اوسط عالمی قیمت ہوگی، جبکہ حکومت مرحلہ وار پٹرولیم شعبے کو زیادہ آزاد اور مسابقتی نظام کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر اصلاحاتی کمیٹی بھی قائم کی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تیل اور گیس کے مقامی ذخائر کی تلاش بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ترکیہ کی ایک توانائی کمپنی تقریباً دو دہائیوں بعد اکتوبر میں سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے اپنا تحقیقی جہاز پاکستان بھیجے گی۔
وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ گردشی قرضے کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جبکہ ملکی ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ خام تیل کی بہتر پراسیسنگ اور عوام کو عالمی معیار کے مطابق مناسب قیمت پر ایندھن فراہم کیا جا سکے۔