پاکپتن ڈی ایچ کیو اسپتال کیس، دو افسران بری

پاکپتن کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں آکسیجن کی عدم دستیابی اور عملے کی مبینہ غفلت سے 20 بچوں کی ہلاکت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔

عدالت نے کیس میں نامزد سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس عدنان غفار کو بری کردیا۔ عدالتی فیصلے میں بریت کی ایک بڑی وجہ بچوں کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹس اور طبی ماہرین کی رائے کا ریکارڈ پر موجود نہ ہونا قرار دیا گیا۔

فیصلے کے مطابق مقدمے کے اندراج کے حوالے سے بھی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پی ایچ سی ایکٹ 2010 کے تحت کسی ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی سفارش ضروری ہوتی ہے، جو اس کیس میں موجود نہیں تھی۔

عدالت نے ان قانونی اور شواہد سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر دونوں ملزمان کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم دیا۔

پولیس کے مطابق 20 بچوں کی اموات کا مقدمہ 5 جولائی 2025 کو درج کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب وزیراعلیٰ پنجاب نے اسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں و ان کے اہلخانہ کی جانب سے متعدد شکایات سامنے آئیں۔

پولیس کے مطابق شکایات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر دونوں افسران کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔