پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا ملکی مفاد میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ملکی مفاد میں باہمی تعاون جاری رکھنے اور سیاسی رابطوں کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں جماعتوں کی کوآرڈینیشن کمیٹیوں کا اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں ہوا، جس میں اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والے سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ملکی معاملات پر مل کر آگے بڑھنے، باہمی رابطے برقرار رکھنے اور اختلافات کو مشاورت کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں جماعتوں نے آئندہ کے لائحہ عمل اور اتحادی حکومت سے متعلق امور پر بھی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کی اندرونی کہانی
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی پنجاب کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات، مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، لوڈشیڈنگ اور کسانوں کے مسائل سمیت مختلف معاملات پر پنجاب حکومت کی کارکردگی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے عوامی مسائل کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر تنقید کی، جبکہ اس دوران حسن مرتضیٰ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے گزشتہ اجلاس میں پیش کی گئی بعض نامزدگیوں اور ترقیاتی اسکیموں سے متعلق ریکارڈ بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس موجود نہیں تھا، جبکہ پیپلز پارٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی اجلاس میں زیرِ بحث آیا۔
ذرائع کے مطابق حسن مرتضیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کیے گئے بعض وعدوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت یا مسلم لیگ (ن) کے ترجمان پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کریں گے تو پارٹی کی جانب سے جواب دینا بھی سیاسی طور پر اس کا حق ہوگا۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی راجہ پرویز اشرف، سردار سلیم حیدر خان، حسن مرتضیٰ، قمر الزمان کائرہ اور علی قاسم گیلانی نے کی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اسحاق ڈار، ایاز صادق، رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔