پنجاب میں صرف 75 دن میں 1129 سڑکیں مکمل 3 شفٹوں میں کام کی نئی مثال قائم. وزیراعلیٰ مریم نواز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ قیادت صوبے میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبوں پر تیز رفتار پیش رفت کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے مطابق صرف 75 روز میں 1,129 سڑکوں کی تکمیل کے ساتھ ترقیاتی رفتار کا نیا ریکارڈ قائم کیا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منصوبوں پر دن رات تین شفٹوں میں کام کیا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف مقررہ اہداف حاصل کیے گئے بلکہ تقریباً 11 ارب روپے کی بچت بھی ممکن بنائی گئی۔ بتایا گیا کہ رواں برس اپریل سے جولائی کے دوران تقریباً 6 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور مرمت مکمل کی گئی، جبکہ مجموعی منصوبے کے تحت آئندہ ڈھائی برس میں 32 ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تکمیل کا ہدف مقرر ہے۔

ان منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت محکمہ مواصلات و تعمیرات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری راجہ جہانگیر انور نے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں “سوہنے پنڈ، سوہنیاں راہواں” پروگرام کے تحت دیہی علاقوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کی پیش رفت بھی پیش کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت جاری کی کہ پنجاب کی تمام شاہراہوں پر لین مارکنگ کے کام کو ہر صورت مکمل کیا جائے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 30 ارب روپے کی لاگت سے صرف 75 دن میں 1,129 سڑکیں اور تقریباً 1,795 کلومیٹر طویل روڈ نیٹ ورک مکمل کیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے محکمہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے متعلقہ افسران اور عملے کو شاباش دی۔

اجلاس میں لاہور رنگ روڈ پر چھ جدید سروس ایریاز قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ حکام کے مطابق ان منصوبوں سے سالانہ تقریباً 50 کروڑ روپے آمدن متوقع ہے، جبکہ رنگ روڈ کی خوبصورتی اور ناردرن لوپ کی بحالی کے منصوبے کی بھی منظوری دے دی گئی۔ منصوبہ ہے کہ رواں سال دسمبر تک تمام نئے سروس ایریاز فعال کر دیے جائیں گے۔

اس دوران پنجاب بھر کی شاہراہوں کے داخلی اور خارجی مقامات کی خوبصورتی کے لیے بھی منصوبہ پیش کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ انیشیٹو، لوکل روڈز پروگرام اور تکمیل کے قریب منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 125 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ روڈ سیکٹر کے ترقیاتی فنڈز کا 99 فیصد استعمال کیا جا چکا ہے۔

لوکل روڈز پروگرام کے تحت 79 ارب روپے کی لاگت سے 1,567 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی گئیں، جن میں تقریباً 3,400 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔ اجلاس میں انٹر ولیج روڈز سے متعلق دستاویزی ویڈیو بھی پیش کی گئی، جبکہ بتایا گیا کہ فیلڈ اسٹاف نے مسلسل تین شفٹوں میں کام کر کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کیا۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ملتان تا وہاڑی 93.5 کلومیٹر طویل دورویہ سڑک، فیصل آباد تا چنیوٹ 24 کلومیٹر دورویہ روڈ اور سیاحت کے فروغ کے لیے 13 کلومیٹر طویل ٹورازم ہائی وے بھی مکمل کی جا چکی ہے۔

حکام کے مطابق روڈ ریسٹوریشن پروگرام کے پہلے مرحلے کی 86 اسکیموں پر 77 فیصد جبکہ دوسرے مرحلے کی 41 اسکیموں پر 31 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ سیلاب سے متاثر ہونے والی 124 سڑکوں کی بحالی بھی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ نئے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں مزید 42 نئی سڑکوں کی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔

اجلاس میں لوکل روڈز کے لیے 17 ارب روپے اور وزیراعلیٰ انیشیٹو کے لیے 17.23 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فیصل آباد تا چنیوٹ فیز ٹو سمیت مجموعی طور پر 907 ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دی گئی، جبکہ سابق ادوار کی نامکمل سڑکوں کی تکمیل کے لیے 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے بھی 51 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کے اختتام پر محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو یادگاری سووینئر پیش کیا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ پنجاب بھر میں زیرِ تعمیر تمام سڑکوں کی تکمیل کے لیے واضح اور حتمی ٹائم لائن جلد پیش کی جائے۔