سیاسی شکست کو دھاندلی قرار دینا مناسب رویہ نہیں۔مشیرِ وزیراعظم رانا ثنااللہ
مشیرِ وزیراعظم رانا ثنااللہ نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور سیاسی شکست کو دھاندلی قرار دینا مناسب رویہ نہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولنگ کے آغاز سے ہی بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے دھاندلی کے دعوے کیے جا رہے تھے، حالانکہ انتخابی عمل مجموعی طور پر پرامن انداز میں مکمل ہوا۔
رانا ثنااللہ نے انتخابی دن پیش آنے والے چند واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قائم مقام صدر آزاد کشمیر لطیف اکبر کے پولنگ اسٹیشن پر ایک خاندان کے ساتھ پیش آنے والی تلخ کلامی کو غیر ضروری طور پر سنگین واقعہ بنا کر پیش کیا گیا۔
انہوں نے ایک اور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشتاق شاہ کے انتقال کو قتل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے بقول ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ دل کا دورہ پڑنے اور طبی پیچیدگیوں کے باعث پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر انتخابی عمل کو ہر ممکن حد تک پرامن اور تشدد سے پاک رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے۔
مشیرِ وزیراعظم نے بلاول بھٹو زرداری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی جماعت کے رہنماؤں سے موصول ہونے والی معلومات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ غلط معلومات کی بنیاد پر بیانات سامنے نہ آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ارکان کو صرف انتخابی کیمپوں تک محدود رہنے کی ہدایات دی گئی تھیں اور پولنگ اسٹیشنز کے اندر مداخلت کی اجازت نہیں تھی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ مظفرآباد کے بعض علاقوں میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی کی فضا محسوس کی گئی، تاہم اس کے باوجود ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر انتخابات پُرامن رہے اور فائرنگ کا جو ایک واقعہ رپورٹ ہوا، وہ بھی متعلقہ فریق کے گن مینوں کی جانب سے پیش آیا۔