رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ریلیف پیکج پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق رائے نا ھو سکا

وفاقی حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس ریلیف پر بات چیت جاری ہے، تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی اور مجموعی طور پر پراپرٹی سیکٹر کے لیے ریلیف پیکج پر مذاکرات جاری ہیں، لیکن اس معاملے پر ابھی تک اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا، جس کے باعث رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ملنے کا معاملہ التوا کا شکار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات گئے تک ورچوئل مذاکرات میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر، تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی اور قابلِ ٹیکس آمدن کی حد بڑھانے سمیت مختلف ٹیکس تجاویز پر غور کیا گیا، تاہم پراپرٹی سیکٹر سے متعلق معاملات پر پیش رفت نہ ہو سکی۔

ایف بی آر ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم آئی ایم ایف کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ریلیف سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور مجموعی ریونیو میں اضافہ ممکن ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ نان فائلرز پر جائیداد کے لین دین کے حوالے سے موجودہ ٹیکس شرح برقرار رکھی جائے جبکہ ریلیف صرف ایکٹو ٹیکس پیئرز تک محدود ہو۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ آئندہ بجٹ میں فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد تک لانے کی تجویز ہے، جبکہ پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد تک کرنے کی بھی بات چیت جاری ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف جائیداد کے لین دین پر ٹیکس میں کمی پر اصولی طور پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم حکومت کی تجویز کے مطابق مکمل ریلیف ملنے کا امکان کم ہے اور شرح میں کمی پر کسی درمیانی حل پر اتفاق ہو سکتا ہے۔