ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں جلد بازی نہ کرنے کا سعودی مشورہ، امریکا کی جانب سے مذاکرات کی کوشش

سعودی حکام نے ایران کے دورے کے بعد وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرکے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے معاملے میں عجلت سے کام نہ لے اور سفارتی کوششوں کو مزید موقع دے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سعودی حکام نے ایران کو وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ بمباری کے خدشات سے آگاہ کیا۔ سعودی عرب نے واشنگٹن سے درخواست کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مزید مہلت دی جائے اور فی الحال کسی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

دوسری جانب ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے امریکی حکومت کی جانب سے بھی سفارتی رابطوں کی کوشش سامنے آئی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی کو خط ارسال کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس خط کا بنیادی مقصد ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران کی سخت گیر قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطہ کرنے سے بات چیت میں پیش رفت اور تنازع کے حل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔