صحت مند اور فعال زندگی کے لیے پھیپھڑوں کی حفاظت بے حد ضروری ہے، کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی کارکردگی قدرتی طور پر متاثر ہو سکتی ہے

صحت مند اور فعال زندگی کے لیے پھیپھڑوں کی حفاظت بے حد ضروری ہے، کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی کارکردگی قدرتی طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ پھیپھڑوں کی صلاحیت میں کمی آنا معمول کی بات ہے، تاہم متوازن طرزِ زندگی اور صحت بخش عادات کے ذریعے انہیں زیادہ عرصے تک مضبوط اور فعال رکھا جا سکتا ہے۔

پھیپھڑے جسم کو آکسیجن فراہم کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اگر ان کی کارکردگی متاثر ہو جائے تو روزمرہ کے معمولات، جسمانی سرگرمیاں اور مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اسی لیے ان کی دیکھ بھال کو معمول کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی، سگریٹ نوشی، ویپنگ، صنعتی دھواں، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کی عادت ایسے عوامل ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ پھیپھڑوں کی صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ عوامل سانس کی بیماریوں اور بعض صورتوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ تک تیز رفتاری سے پیدل چلنے کی عادت اپنائی جائے۔ جو افراد ورزش کے عادی نہیں، وہ ابتدا میں 15 سے 20 منٹ کی چہل قدمی سے آغاز کریں اور بتدریج دورانیہ بڑھاتے جائیں۔

ان کے مطابق روزانہ صرف آدھا گھنٹہ تیز قدموں سے چلنا پھیپھڑوں اور دل دونوں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس عادت سے جسم میں آکسیجن کے بہتر استعمال، خون کی روانی میں بہتری اور جسمانی برداشت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ سانس پھولنے کی شکایت بھی نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صرف پیدل چلنا کافی نہیں، بلکہ مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی اپنانا بھی ضروری ہے۔ تمباکو نوشی سے پرہیز، متوازن غذا، تازہ پھل اور سبزیوں کا استعمال، مناسب مقدار میں پانی پینا، سانس کی مشقیں، یوگا، معیاری نیند اور مناسب وزن برقرار رکھنا پھیپھڑوں کی بہتر کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گہری سانس لینے کی مشقیں بھی سانس کے نظام کو بہتر بنانے میں مددگار سمجھی جاتی ہیں۔

اگر کسی شخص کو مسلسل کھانسی، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بار بار سانس کی نالی کا انفیکشن یا کھانسی کے ساتھ خون آنے جیسی علامات محسوس ہوں تو انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد پہلے سے دل، پھیپھڑوں یا کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں، انہیں ورزش یا روزمرہ معمولات میں بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔