ماہرین کے مطابق وہ افراد جو پہلے ہی اضطراب، ہر چیز کو مکمل رکھنے کی خواہش یا ہر معاملے پر کنٹرول رکھنے کی عادت رکھتے ہیں، وہ اسمارٹ واچ کے اسکورز سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں
اسمارٹ واچز اب صرف وقت بتانے والی ڈیوائسز نہیں رہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ صحت سے متعلق مختلف معلومات بھی فراہم کرتی ہیں۔ یہ دل کی دھڑکن، نیند، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمی اور ریکوری اسکور جیسے کئی اشاریوں کی نگرانی کرتی ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ان اعداد و شمار پر حد سے زیادہ انحصار ذہنی دباؤ اور غیر ضروری تشویش کا سبب بن سکتا ہے۔
ایکس ٹیکنالوجی کی بانی نرگزا نوئمن زینڈر کے مطابق صحت سے متعلق ڈیٹا اس وقت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جب وہ بہتر طرزِ زندگی اپنانے اور درست فیصلے کرنے میں مدد دے، لیکن اگر یہی معلومات انسان کے روزمرہ کے احساسات اور فیصلوں پر حاوی ہونے لگیں تو یہ منفی اثرات بھی مرتب کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تشویش کی علامت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی شخص صبح بیدار ہوتے ہی اپنی جسمانی کیفیت جانچنے کے بجائے سب سے پہلے اسمارٹ واچ کی ریڈنگ دیکھنے لگے۔ ایسی صورت میں ڈیوائس آہستہ آہستہ صحت سے متعلق فیصلوں پر غیر ضروری اثر ڈالنے لگتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وہ افراد جو پہلے ہی اضطراب، ہر چیز کو مکمل رکھنے کی خواہش یا ہر معاملے پر کنٹرول رکھنے کی عادت رکھتے ہیں، وہ اسمارٹ واچ کے اسکورز سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کم نیند یا کم ریکوری اسکور انہیں کسی سنگین مسئلے کا اشارہ محسوس ہو سکتا ہے، حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے اعداد و شمار بار بار دیکھنے سے بعض لوگ جسم میں آنے والی معمول کی تبدیلیوں کو بھی بیماری سمجھنے لگتے ہیں۔ معمولی تھکن، نیند کی کمی یا دل کی دھڑکن میں ہلکا سا فرق عام بات ہو سکتی ہے، لیکن جب ڈیوائس انہیں زیادہ اسٹریس یا کم ریکوری ظاہر کرے تو انسان اپنی حالت کو اسی زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔
ان کے مطابق کم ریکوری اسکور بعض افراد کے روزمرہ معمولات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کچھ لوگ ورزش مؤخر کر دیتے ہیں، اہم کام ٹال دیتے ہیں یا یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکیں گے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔
میڈ کیئر الصفاء کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر جان نکلس اسٹرکلنگ کا کہنا ہے کہ اسمارٹ واچز نے صحت سے متعلق آگاہی میں ضرور اضافہ کیا ہے، لیکن انہیں طبی تشخیص کا متبادل تصور نہیں کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق یہ ڈیوائسز دل کی دھڑکن، نیند، جسمانی سرگرمی اور بعض ممکنہ طبی مسائل کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کر سکتی ہیں، تاہم صرف ایک ریڈنگ کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ جسم کی حرکت، سینسر کا درست طریقے سے نہ لگنا، پانی کی کمی، ذہنی دباؤ، کیفین کا استعمال اور اردگرد کا ماحول بھی اسمارٹ واچ کی ریڈنگ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر جان نکلس اسٹرکلنگ نے مزید کہا کہ اگر اسمارٹ واچ کسی ممکنہ مسئلے کی نشاندہی کرے تو حتمی تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ مکمل طبی معائنہ، مریض کی سابقہ طبی تاریخ اور ضروری ٹیسٹ ہی درست تشخیص میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صحت مند افراد کے لیے روزمرہ ورزش، جسمانی سرگرمی، نیند کے رجحانات اور طرزِ زندگی میں آنے والی مجموعی تبدیلیوں پر نظر رکھنا زیادہ مفید ہے، جبکہ بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دل کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے اضافی صحت کے اشاریوں کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ روزانہ سامنے آنے والے معمولی اتار چڑھاؤ کے بجائے مجموعی صحت کے رجحان پر توجہ دی جائے، کیونکہ اچھی صحت کا انحصار صرف مثالی نمبرز پر نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی توازن برقرار رکھنے پر ہوتا ہے۔