آئی ایم ایف کی شرط پوری، سرکاری اداروں کی 2023 پالیسی میں اہم ترامیم
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کی تکمیل کے سلسلے میں ریاستی ملکیتی اداروں سے متعلق 2023 کی پالیسی میں اہم تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
ترمیم شدہ پالیسی کے تحت تمام سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز (IFRS) کے مطابق مالیاتی حساب کتاب برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں کو مؤثر اندرونی آڈٹ کا نظام بھی اپنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے فنانس ڈویژن آڈیٹر جنرل کے دفتر سے مشاورت کے بعد مالی انتظام سے متعلق ایک جامع فریم ورک تیار کرے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عام کمپنیوں کے لیے مقرر کردہ بعض رعایتوں اور ضوابط کا اطلاق سرکاری ملکیتی اداروں پر بھی ہوگا۔ اس حوالے سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی متعلقہ پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے گا، جبکہ بینکاری شعبے سے وابستہ سرکاری اداروں کے لیے اسٹیٹ بینک کے متعلقہ قواعد و ضوابط نافذ ہوں گے۔
وفاقی حکومت کے مطابق پالیسی میں کی گئی ترامیم کا بنیادی مقصد سرکاری ملکیتی اداروں کے مالی نظم و نسق، شفافیت اور احتساب کے نظام کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔