اسٹیل انڈسٹری پر بجلی کے سیلز ٹیکس سے متعلق نئی شرائط

اسٹیل انڈسٹری کے لیے بجلی پر عائد سیلز ٹیکس کے حوالے سے نئی اور مزید سخت شرائط نافذ کردی گئی ہیں، جس کے تحت فاٹا، پاٹا اور ری رولنگ یونٹس کو کم شرح پر ٹیکس کی سہولت مخصوص شرائط پوری کرنے کی صورت میں ہی حاصل ہوگی۔

ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ری رولنگ ملز کو بجلی کے ہر یونٹ پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ فاٹا اور پاٹا کے اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس کے لیے بھی ٹیکس کی رعایتی شرح سے متعلق شرائط سخت کردی گئی ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اگر اسٹیل یونٹس مقامی اسکریپ استعمال کریں گے تو ان سے بجلی کے فی یونٹ پر 20 روپے جی ایس ٹی وصول کیا جائے گا۔

دوسری جانب درآمدی خام مال یا اسکریپ کا تناسب 70 فیصد سے زیادہ ہونے کی صورت میں بجلی کے ہر یونٹ پر سیلز ٹیکس کی شرح 5 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس رعایتی شرح کا اطلاق سہ ماہی بنیاد پر ہونے والی خریداری یا درآمدات کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

ایف بی آر کے مطابق بجلی کے بل کے ذریعے وصول کیا جانے والا سیلز ٹیکس ایڈوانس ٹیکس تصور ہوگا، جسے بعد میں آؤٹ پٹ ٹیکس کے مقابل ایڈجسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بجلی کے کنکشن کی ملکیت تبدیل ہونے یا اسے لیز پر دیے جانے کی صورت میں بھی مذکورہ ٹیکس سے متعلق ذمہ داری برقرار رہے گی۔