آبنائے ہرمز میں امریکی حملے، ایرانی آئل ٹینکرز تباہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران کے 5 آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایرانی جانب سے مسلسل دو روز تک امریکی بحری بیڑے کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے پیر کے روز امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کارروائیوں کے نتیجے میں کسی امریکی بحری جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی موقف کے مطابق ایرانی تیل بردار جہازوں کے خلاف کارروائی کا مقصد واضح اور سخت پیغام دینا ہے کہ امریکی بحری اثاثوں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
امریکی کارروائی کے بعد ایران کی جانب سے بھی جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق اردن میں امریکی الازرق ایئربیس پر تقریباً 20 میزائل داغے گئے۔ اردنی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر ناکارہ بنادیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے ایک امریکی اسمارٹ آبدوز کو پکڑنے کا دعویٰ بھی کیا ہے اور اس حوالے سے ویڈیو جاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔
خطے میں فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ اقتصادی محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکا نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایرانی ایوی ایشن سیکٹر کی معاونت کے الزام میں 36 اداروں اور افراد کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی تیل مارکیٹ پر بھی نمایاں ہوئے ہیں، جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان میں بھی اس صورتحال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔
نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول 5 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوگیا، جبکہ صرف دو روز کے دوران مجموعی اضافہ 18 روپے 48 پیسے تک پہنچ گیا۔ اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 364 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 4 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔