طارق فضل چوہدری کا ایمرجنسی اور پی ٹی آئی لانگ مارچ پر اہم بیان

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا آئینی طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت صدر مملکت کی جانب سے اقدام کے بعد پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی دوسرے فرد کو منتقل کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی منظوری کی صورت میں آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف ایگزیکٹو کے اختیارات گورنر کو منتقل کیے جانے کی بھی گنجائش موجود ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایمرجنسی کے نفاذ کے نتیجے میں حکومت کو سیاسی طور پر کوئی نقصان یا اثرات برداشت کرنا پڑیں تو اس کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ بارہا احتجاجی کالز کے باوجود تین صوبوں میں پارٹی مطلوبہ تعداد میں کارکن جمع نہیں کرسکی۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کی جانب سے 20 لاکھ افراد لانے کی بات کی جاتی رہی، تاہم 20 ہزار افراد بھی اکٹھے نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے بعد پی ٹی آئی نے اب 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی پر عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر صوبے میں امن، استحکام اور خوشحالی آتی ہے تو عوام اس کا خیرمقدم کریں گے، تاہم دہشت گردی میں اضافے کو روکنا زیادہ اہم ہے۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر دھڑے بندی اور اختلافات موجود ہیں اور لانگ مارچ کے معاملے پر بھی ارکان کی مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق پی ٹی آئی کے بعض ارکان اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے طریقہ کار کی مخالفت بھی کررہے ہیں۔