ایک زہریلا شخص کبھی نہیں بدلتا۔ وہ صرف اپنے شکار بدلتا ہے

ایک زہریلا (toxic) شخص کبھی نہیں بدلتا۔ وہ صرف اپنے شکار بدلتا ہے اور اپنی ہر غلطی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔
​وضاحت
​اس قول میں ایک ایسے رویے کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسانی تعلقات میں بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے:
​تبدیلی کی کمی: یہاں “زہریلے شخص” سے مراد وہ انسان ہے جس کی عادت میں ہیرا پھیری کرنا، جذباتی اذیت دینا یا دوسروں کو نیچا دکھانا شامل ہو۔ ایسے لوگ عموماً اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے، اسی لیے ان کے سدھرنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔
​شکار بدلنا: جب ایک انسان ان کی اصلیت جان لیتا ہے اور ان سے دور ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے کسی نئے شخص کو ڈھونڈتے ہیں تاکہ اسے اپنی باتوں یا رویے سے متاثر کر سکیں۔
​الزام تراشی: ان کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ناکامیوں یا اپنے غلط رویوں کی ذمہ داری خود لینے کے بجائے ہمیشہ دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ خود ہمیشہ “مظلوم” ہوتے ہیں۔
​حاصلِ کلام: یہ قول ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کو بدلنے کی کوشش میں اپنی توانائی ضائع کرنے کے بجائے ان سے فاصلہ رکھنا ہی بہتری ہے۔