امریکی فوج نے مسلسل پانچویں روز بھی ایران میں مختلف اہداف پر فضائی کارروائیاں جاری رکھیں

امریکی فوج نے مسلسل پانچویں روز بھی ایران میں مختلف اہداف پر فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق حملوں میں ایرانی عسکری کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی نظام، میزائل تنصیبات اور ڈرون صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کے معاملے پر وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اپنے اعلیٰ مشیروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔ اطلاعات کے مطابق خارگ جزیرے پر فوجی کارروائی اور وہاں امریکی افواج کی تعیناتی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، جبکہ امریکی انتظامیہ کے اندر زمینی فوج بھیجنے کے معاملے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے فوجی مداخلت کا دور گزر چکا ہے۔ ان کے بقول امریکی افواج کا مقصد کسی بھی قوم کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنا نہیں ہونا چاہیے۔