امریکی افواج کی مسلسل تیسری رات ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں
امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں، جبکہ ایرانی حکام نے بھی جوابی اقدامات کا دعویٰ کرتے ہوئے خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بندر عباس، قشم، جزیرہ کیش اور بوشہر سمیت متعدد مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں موجود ایک امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل داغے، جبکہ خطے میں بعض امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا کہ 13 جولائی کو ایران کے خلاف حالیہ فوجی آپریشن کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی میں مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کے مطابق کارروائیوں میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے علاقوں میں واقع ایرانی عسکری تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون مراکز، اور بحری صلاحیتوں کو ہدف بنایا گیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد تجارتی جہاز رانی کے لیے ممکنہ خطرات کو کم کرنا تھا۔
امریکی فوج نے یہ بھی بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور تمام فورسز مکمل طور پر الرٹ اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں دو سپر ٹینکروں کو نشانہ بنا کر انہیں ناکارہ بنا دیا گیا، کیونکہ متعلقہ جہازوں نے ایرانی وارننگ کو نظر انداز کیا تھا۔
ایرانی بیان میں مزید کہا گیا کہ بحرین میں واقع جفیر ایئربیس کے اسلحہ گودام، ایک سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز اور امریکی افواج سے متعلق رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی بحالی میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کے عالمی توانائی کی منڈی پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔