امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے حملوں کا تبادلہ
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ امریکا نے اپنی فوجی تیاریوں میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ایک بی-1 بمبار طیارہ بھی تعینات کر دیا ہے۔
امریکی ویب سائٹ Axios کی رپورٹ کے مطابق طویل فاصلے تک کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھنے والا بی-1 اسٹریٹجک بمبار برطانیہ میں قائم ایک امریکی فضائی اڈے پر پہنچ گیا ہے۔ یہ طیارہ بڑی مقدار میں روایتی ہتھیار، کروز میزائل اور دیگر جدید اسلحہ لے جانے اور استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی کا عمل بھی تیز کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت اضافی فوجی اہلکار، طبی عملہ اور عسکری سازوسامان خطے میں منتقل کر رہی ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ممکنہ آپریشن کی صورت میں مزید عسکری آپشنز موجود ہوں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اپنے مختلف اڈوں سے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہیں، جبکہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور امریکی حکام کی معلومات بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی اور اتحادی افواج نے خطے کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن بھی تعینات کر دیے ہیں، جبکہ امریکا اور برطانیہ کے فوجی اڈوں پر موجود بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔