واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ وسیع فوجی کارروائی سے متعلق مختلف آپشنز پر غور جاری
July 21, 2026
3:10 pm
واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ وسیع فوجی کارروائی سے متعلق مختلف آپشنز پر غور جاری ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق اگر امریکا عسکری کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسرائیل کی شمولیت بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اب تک امریکا نے تہران یا حساس جوہری تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے، تاہم اگر بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا گیا تو اس حکمتِ عملی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی جنگی طیاروں کی تعیناتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی نئے فوجی آپریشن کی شدت حالیہ حملوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے ایک اور مرحلے کے دوران ایرانی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس کے علاوہ فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی سینٹرل کمانڈ کی فورسز تقریباً 900 تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے اور لگ بھگ 450 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل میں معاونت فراہم کر چکی ہیں۔
امریکی فوج نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سفر کرنے والے سویلین جہازوں یا ملاحوں کے خلاف کسی قسم کی جارحانہ کارروائی کی گئی تو امریکی افواج اس کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔