زرعی ترقیاتی بینک میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
زرعی ترقیاتی بینک کی کارکردگی سے متعلق سامنے آنے والی آڈٹ رپورٹ میں مالی نظم و نسق، قرضوں کی تقسیم اور انتظامی معاملات کے حوالے سے کئی سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بینک کے مجموعی 577 ارب روپے کے اثاثوں میں سے تقریباً 414 ارب روپے حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کیے گئے، جس سے خاطر خواہ منافع حاصل ہوا، جبکہ زرعی شعبے اور کسانوں کو دیے جانے والے قرضوں کا حجم نسبتاً محدود رہا۔
آڈٹ دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جاری کیے گئے قرضوں کا بڑا حصہ پنجاب میں تقسیم کیا گیا، جبکہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کو اس کے مقابلے میں بہت کم مالی سہولتیں فراہم کی گئیں۔
رپورٹ میں ایک عمر رسیدہ آئی ٹی کنسلٹنٹ کی بھرتی اور اس پر آنے والے اخراجات کو بھی سوالیہ نشان قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انتظامی امور، مالی نگرانی اور بھرتیوں کے طریقہ کار میں مختلف کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آڈٹ کے مطابق قرضوں کی وصولی کا نظام بھی مؤثر ثابت نہیں ہوا، جس کے باعث غیر وصول شدہ قرضوں کا حجم نمایاں حد تک بڑھ گیا۔ بعض معاملات میں جعلی دستاویزات، مشکوک انشورنس کلیمز اور نامکمل ریکارڈ کے باوجود قرضوں کی منظوری کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کریڈٹ رسک مینجمنٹ کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے، ممکنہ مالی نقصان کی تحقیقات کی جائیں اور متعلقہ افسران کے خلاف ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔